STORIES for CHILDREN by Sister Farida

(www.wol-children.net)

Search in "Urdu":

Home -- Urdu -- Perform a PLAY -- 079 (Invaluable)

Previous Piece -- Next Piece

!ڈرامے – اِن کو دوسرے بچوں کے سامنے بھی پیش کیجیے
بچوں کے سامنے پیش کرنے والے ڈرامے

97. انمول


(پانی کی پھوار کی آواز) بھارتی موتیوں کی ڈبکی مارنے والا بہت مہارت سے سمندر میں کودا۔ اُس کا بہترین دوست، داؤد مورس کشتی میں انتظار کرتا رہا جب تک بھورا سر دوبارہ نظر نہیں آیا۔ اُس نے اپنی جیب میں رکھے چاقو کی مدد سے صدفہ کھولا۔

ڈیوڈ مورس: ’’رام باہو تم ایک زبردست تیراک ہو۔ یہ موتی قیمتی لگ رہا ہے۔‘‘

رام باہو: ’’ہاں یہ اِتنا برا بھی نہیں لگ رہا۔‘‘

ڈیوڈمورس: ’’کیا اِس سے بہتر موتی مل سکتاہے؟‘‘

رام باہو: ’’میرے پاس گھر پر ایک ہے وہ بہت زیادہ قیمتی ہے۔‘‘

ڈیوڈ مورس: ’’میرے خیال سے یہ موتی بالکل ٹھیک ہے۔ تم اِسے بہت باریکی سے دیکھ رہے ہو۔‘‘

رام باہو: ’’اِسی طرح تم ہمیشہ اپنے خُداکے بارےمیں بھی کہتےہو۔ لوگ سوچتے ہیں کہ وہ ٹھیک ہے لیکن تم کہتے ہو کہ خُدا جانتا ہے کہ وہ اندر سے کیسے ہیں۔‘‘

ڈیوڈ مورس: ’’ہاں، یہ ٹھیک ہے۔ لیکن وہ ہر شخص کو پاک د ل دینا چاہتاہے۔ یہ خُدا کی نعمت ہے۔ کیاتم اِسے سمجھتے ہو؟‘‘

اِتنی دیر میں وہ دونوں دوست ساحل پر پہنچ گئے۔

رام باہو: ’’ڈیوڈ، یہ بہت آسان لگتاہے۔ مَیں بہت فخر محسوس کرتاہوں اِس نعمت کو حاصل کرنے میں۔ مَیں کچھ ایسا کرنا چاہتا ہوں کہ اِسے حاصل کر سکوں۔ کیا تم وہاں اُس مسافر کو دیکھ سکتے ہو؟ وہ نوک والے پتھروں پر ننگےپاؤں چلتا رہے گاجب تک کہ وہ کلکتہ نا پہنچ جائے۔ مَیں اپنے گھٹنوں کے بل دہلی تک جانے والا ہوں۔‘‘

ڈیوڈ مورس: ’’رام باہو، وہ تو ۰۰۶ میل دور ہے۔ اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے تمہارے خون میں زہر چڑھ جائے گا اور تم مر جاؤ گے۔‘‘

لیکن ڈیوڈ نے جو کچھ کہا اُس کا کوئی فائد ہ نا ہو سکا۔ پھر کچھ دن گزر گئے۔

(کھٹکھٹانے کی آواز)
ڈیوڈ مورس: ’’رام باہو، کیا یہ تم ہو؟ اندر آ جاؤ۔‘‘

رام باہو: ’’ڈیوڈ، کل مَیں اپنا سفر شروع کرنے جا رہا ہوں۔ اِس سے پہلے کہ مَیں جاؤں مَیں تمہیں اپنے بیٹے کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔‘‘

ڈیوڈ مورس: ’’تمہارا بیٹا بھی ہے؟‘‘

رام باہو: ’’وہ بھارتی سمندر کے کنارے پر سب سے زبردست موتیوں کے لیے ڈبکی لگانے والاشخص تھا۔ وہ سب سے خوبصورت موتی ڈھونڈنا چاہتا تھا۔ اور اُسے وہ مل گیا۔ لیکن چونکہ وہ بہت دیر سے پانی کے اندر تھا۔ وہ اُس کے کچھ ہی دیر بعد مر گیا (رونے کی آوز)۔ کیونکہ تم میرے سب سے اچھے دوست ہو، اِسلیے مَیں تمہیں وہ سب سے خوبصورت موتی دینا چاہتا ہوں جو اُس نے ڈھونڈا تھا۔‘‘

ڈیوڈ مورس: ’’رام باہو، یہ تو کمال ہو گیا۔ بالکل ٹھیک ہے لیکن کوئی بھی ایسا طریقہ نہیں ہےکہ جس سے مَیں یہ قبول کر سکوں۔ مَیں تمہیں اِس کے لیے ۰۰۰،۰۱ روپے دوں گا۔‘‘

رام باہو: ’’لیکن تم اِسے خرید نہیں سکتے۔‘‘

ڈیوڈ مورس: ’’اگر یہ اِس سے بھی زیادہ قیمتی ہے تو مَیں اور پیسوں کا انتظام کروں گا۔‘‘

رام باہو: ’’ڈیوڈ، موقی بہت زیادہ قیمتی ہے۔ میرے بیٹے نے اپنی جان دے دی اِس کےلیے۔‘‘

ڈیوڈ مورس: ’’رام باہو، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے مَیں تمہیں خُدا کے بارے میں بتا رہا تھا۔ اُس کی نجات کا تحفہ بھی خریدا نہیں جا سکتا۔ نا ہی اپنے اچھے کاموں سے اور نا ہی زیارت سے۔ یہ خُدا کی نعمت ہے، کیونکہ اِس کےلیے خُدا کے بیتے کو اپنی جان دینی پڑی۔ کیاآج تم اِس نعمت کو حاصل نہیں کرنا چاہو گے؟‘‘

رام باہو: ’’اب مَیں سمجھا۔ اِس کےلیے اُسے اپنے بیتے کی جا ں قربان کرنا پڑی۔ مَیں بھی آج اُس کی نجات کی نعمت کو حاصل کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

نجات خُداکی نعمت ہے آپ کےلیے بھی۔


لوگ: بیان کرنے والی، ڈیوڈ مورس، رام باہو

جملہ حقوق محفوظ ہیں: سی ای ایف جرمنی

www.WoL-Children.net

Page last modified on March 04, 2024, at 03:12 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.3.3)