STORIES for CHILDREN by Sister Farida

(www.wol-children.net)

Search in "Urdu":

Home -- Urdu -- Perform a PLAY -- 165 (The secret place is taken 3)

Previous Piece -- Next Piece

!ڈرامے – اِن کو دوسرے بچوں کے سامنے بھی پیش کیجیے
بچوں کے سامنے پیش کرنے والے ڈرامے

561. خفیہ جگہ لے لی گئی ۳


روتھ (پرجوشی سے): ’’ماگریٹ خالہ، روبنجر صاحب کی بیوی نے مجھے بلایا ہے۔ اور کہا ہے کہ مَیں اُن کے بچوں کو ہفتے کے دن اپنے ساتھ گھُومنے لے کر جاؤں۔ کیا مَیں چلی جاؤں؟ مہر بانی سے ہاں کیجیے!‘‘

ماگریٹ خالہ: ’’میرے خیال سے ایسا نہیں ہو سکتا۔ مَیں نے مِلر صاحب کی بیوی سے وعدہ کیا ہے کہ تم اُن کی بھتیجی کے ساتھ کھیلو گی۔‘‘

روتھ: ’’لیکن مَیں ایسا نہیں کرنا چاہتی! مجھے وہ بہت بُری لگتی ہے! مَیں وہاں جاؤں گی جہاں میرا دل کرے گا!‘‘

ماگریٹ خالہ: ’’روتھ اپنے کمرے میں جاؤ۔ مجھے لگا تھا تم بدل چُکی ہو۔‘‘

روتھ: ’’مجھے کوئی پرواہ نہیں!‘‘ (دروازے کو زور سے بند کرنے کی آواز)

لیکن روتھ کو پرواہ تھی۔ وہ بستر پر لیٹ گئی اور تھوڑا روئی۔

ماگریٹ خالہ: ’’روتھ تمہارا مسلہ کیا ہے؟‘‘

روتھ (سِسکتی ہوئی): ’’مَیں پھر سے بُری بن گئی تھی۔ کیا اچھا چرواہا مجھے ابھی بھی پیار کرے گا؟ ماگریٹ خالہ، کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ مجھے معاف کر دے گا؟‘‘

روتھ: ’’ہاں ضرور، روتھ۔ اگر تم واقعی شرمندہ ہو اور خُداوند یسوع سے معافی مانگ لوگی، تو وہ تمہیں معا ف کر دے گا۔‘‘

روتھ نے دعا کی۔ اور اُس نےاپنی خالہ کو بھی کہا کہ وہ اُسے معاف کر دیں۔ پھر وہ اطمینان اور خوشی سے سوگئی اور اگلے دن کا انتظار کرنے لگی۔

روتھ اور فلپ چھِپ کر جنگل جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

دونوں بہن بھائی صبح جلدی ہی غائب ہو گئے۔

گھنی جھاڑیو ں میں اُن کی جھونپڑی بالکل ویسی ہی لگ رہی تھی جیسی وہ ہمیشہ سے تھی۔ فلپ رینگتا ہوا کھلی طرف سے اندر داخل ہوا، لیکن وہ جلد ہی باہر نکل آیا۔

فلپ: ’’اندر کوئی ہے! باہر نکلوابھی کے ابھی! یہ ہماری جھونپڑی ہے۔‘‘

ٹیری: ’’مجھے تمہاری بیکار جھونپڑی نہیں چاہیے۔ مَیں اِس سے بہتر بنا سکتا ہوں۔‘‘

ایک لڑکا پُرانی شرٹ اور پھٹی ہوئی پتلون پہنے ہوئے رینگتا ہوا اُن کی جھونپڑی سے باہر نکلا۔ اُس کی عمر تقریباً دس سال تھی ۔فلپ اور روتھ کو وہ اچھا لگنے لگا۔ ٹیری اُن کا سب سے اچھا دوست بن گیا۔ انہوں نے اُس کو اپنی تفریح میں شامل کرلیا اور اُس نے اُنہیں جنگل کے بہت سارے خفیہ راز بتائے۔

وہ بندر کی طرح اوپر چڑھ سکتے تھے۔ کوئی بھی درخت اُن کے لیے زیادہ اونچا نہیں تھا۔

فلپ: ’’رُکو، ٹیری! آگے مت بڑھنا! وہ ٹہنی بہت پتلی ہے!‘‘

(ٹہنی کے ٹوٹنے کی آواز) پھر وہ ٹوٹ گئی اور ٹیری زمین پر گِر گیا۔ وہ وہیں پڑا تھا اور اُس کے لیے مشکل تھا۔

فلپ: ’’روتھ، میرا خیال ہے وہ ابھی بھی زندہ ہے۔ تم اِس کے پاس رہو اور مَیں جا کر مدد لے کر آتا ہوں۔‘‘

روتھ کو ٹیری کے بارے میں ڈر تھا اور اُس نے دعاکی:

روتھ: ’’خُداوند یسوع، مہربانی سے ٹیری کو مرنے مت دیجیے۔ مَیں اُسے آپ کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں تاکہ وہ بھی آپ کی ایک بھیڑ بن سکے۔‘‘

آخر کار مدد آگئی۔ بڑی احتیاط کے ساتھ، ٹیری کو بیمار بردار پر لِٹایا گیا اور ہسپتال لے کر جایا گیا۔

فلپ: ’’روتھ، کیا تمہیں لگتا ہے کہ ٹیری مر جائے گا؟‘‘

آپ کو اگلے ڈرامے میں پتہ چل جائے گا۔


لوگ: بیان کرنے والی، روتھ، ماگریٹ خالہ، فلپ، ٹیری

جملہ حقوق محفوظ ہیں: سی ای ایف جرمنی

www.WoL-Children.net

Page last modified on March 07, 2024, at 02:36 PM | powered by PmWiki (pmwiki-2.3.3)