STORIES for CHILDREN by Sister Farida

(www.wol-children.net)

Search in "Urdu":

Home -- Urdu -- Perform a PLAY -- 054 (Someone cries, the others smirk 2)

Previous Piece -- Next Piece

!ڈرامے – اِن کو دوسرے بچوں کے سامنے بھی پیش کیجیے
بچوں کے سامنے پیش کرنے والے ڈرامے

45. کوئی روتا ہے، دوسرے ہنستے ہیں ۲


شمالی اسرائیل میں گھر سے بہت دور، دس بھائی اپنے باپ کی بھیڑوں کی رکھوالی کر رہے تھے جو چراگاہ میں گھاس چر رہی تھیں (بھیڑوں کی میں میں کی آواز)۔

اُن کا چھوٹے بھائی سے حسد اُنہیں اُ کسا رہا تھا۔

پہلا بھائی: ’’خواب دیکھنے والا یوسف آجکل کیا کر رہا ہے؟‘‘

دوسرا بھائی: ’’خُدا نے اُسے صاف صاف بتایا ہے کہ وہ ایک مشہود آدمی بنے گا۔ اور ہمیں اُسے سِجدہ کرنا پڑے گا۔ ہاہا، مَیں نے آج تک کی یہ سب سے مزاہیہ بات سنی ہے۔‘‘

پہلا بھائی: ’’مَیں ابھی بھی اُس خوبصورت کوٹ کے لیے بد گمان ہوں جو ابو نے اُس کو دیا ہے۔‘‘

دوسرا بھائی: ’’آؤ اِس بارے میں بات کرنا بند کرتے ہیں۔ اِس سے ہمیں صرف اُداسی ہی ملتی ہے۔ بھیڑوں کے لیے سر سبز چراگاہیں زیادہ ضروری ہیں۔‘‘

گھر پر والدنے اپنے بیٹوں کے بارے میں سوچا۔

والد: ’’یوسف، مجھے تمہارے بھائیوں کی فکر ہو رہی ہے۔ کیا وہ ٹھیک اور محفوظ ہوں گے؟ ہو سکتا ہے جنگلی جانوروں نے بھیڑوں پر حملہ نا کر دیا ہو۔ جاؤ اُن کے پاس جاؤ اور دیکھو کہ وہ ٹھیک تو ہیں نا۔‘‘

یوسف کو یہ پانچ بار بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی کہ اُسے کیا کرنا ہے۔ اعتراز کیے بغیر اُس نے جلدی سے وہ ہی کیا۔ یوسف کو بہت زیادہ میلوں کا سفر طے کرنا تھا۔ اُس کے بھائیوں نے اُسے دور سے ہی دیکھ لیا۔

پہلا بھائی: ’’دیکھو، وہ آ رہا ہے خواب دیکھنے والا۔ ارے بھائیو، آؤ اُسے مار ڈالتے ہیں۔‘‘

دوسرا بھائی: ’’ایسا مت کرنا۔ اِس سے اچھا ہے کہ اُسے کُنویں میں پھینک دو۔‘‘

روبن جو سب سے بڑا بھائی تھا اُس کا ضمیر اُس کو ملامت کرنے لگا۔ وہ اپنے بھائی کو بچانا چاہتا تھا۔یوسف قریب آگیا۔ وہ اُن کے خطرناک منصوبوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔

یوسف: ’’آپ پر سلامتی ہو بھائیو! آپ کیسے ہیں؟‘‘

پہلا بھائی: ’’تمہارا اِس بات سے کوئی مطلب نہیں۔ اپنا کوٹ مجھے دے دو اِسی وقت۔ اورپھر ہم تمہیں دکھائیں گے کہ کُنویں میں نیچے سے اُوپر کی طرف کیسا نظر آتا ہے۔‘‘

یوسف: ’’نہیں! مجھے جانے دو! میں نے کب کوئی غلط کام کیا ہے؟‘‘ (اُس کےنیچےپھینکے جانے کی آواز)

خوش قسمتی سے کنویں میں بالکل بھی بانی موجود نہیں تھا۔ لیکن وہ اِتنا گہرا تھا کہ یوسف خود چڑھ کر اُس میں سے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔

یوسف: ’’بچاؤ! بچاؤ! مجھے یہاں سے باہر نکالو! بچاؤ! مَیں باہر نکلنا چاہتا ہوں۔ کیا تم مجھے سن سکتے ہو؟ بچاؤ!‘‘

اُس کے بھائیوں نے منہ بنایا، اور چھاؤں میں بیٹھ کر کچھ کھایا پیا۔ اچانک اونٹوں کا قافلہ وہاں آپہنچا۔ تاجر اپنا مال لے کر مصر جا رہے تھے۔

پہلا بھائی: ’’میرے پاس ایک ترکیب ہے۔ آؤ یوسف کو بیچ دیں۔‘‘

دوسرا بھائی: ’’زبردست ترکیب ہے، یہوداہ۔ پھر ہمیں اُس سے چھُٹکارا مل جائے گا، اور ہم پیسہ آپس میں بانٹ لیں گے۔‘‘

سودا کر لیا گیا۔ یوسف کو بھائیوں نے اُسے چاندی کے بیس سکوں کے بدلے میں دوسرے ملک میں غلام بن کر جانے کے لیے بیچ دیا۔ اُنہوں نے اُس کا خوبصورت کوٹ سنبھال کر رکھا اور اُسے واپس ساتھ لائے تاکہ باپ کو دکھا سکیں۔ اُس پر خون لگا ہوا تھا۔

پہلا بھائی: ’’ابو، ہمیں یہ ملا۔ کیا یہ یوسف کا کوٹ نہیں؟‘‘

والد: ’’ہاں، کسی جنگلی جانور نے اِسے پھاڑ ڈالا ہوگا۔ وہ مر گیا ہے! میرا بیٹایوسف مر گیا ہے!‘‘

اُنہوں نے اپنا گناہ جھوٹ کی مدد سے چھپا لیااور اُن کے والد نے اُ ن پر یقین کر لیا۔

اُن کے دلوں سے صرف برائی ہی باہر آئی۔ لیکن یوسف کے لیے خُدا نے اُسے بھلائی میں بدل دیا۔

مجھے یہ خیال آ رہا ہے کہ اگلے ڈرامے میں اِس کہانی میں کیا ہوگا۔ کیا آپ کو بھی یہ خیال آرہاہے؟


لوگ: بیان کرنے والی، دو بھائی، یوسف، والد

جملہ حقوق محفوظ ہیں: سی ای ایف جرمنی

www.WoL-Children.net

Page last modified on February 29, 2024, at 10:26 AM | powered by PmWiki (pmwiki-2.3.3)